مدارس اور جدیدتعلیم کا امتزاج:دینی مدارس میں عصری علوم کے ادغام کی اہمیت ، چیلنجز اور عملی اقدامات
Keywords:
دینی مدارس, عصری تعلیم, سماجی علوم, تعلیمی اصلاحات۔نصاب سازی, تنقیدی جائزہ, تعلیمی ہم آہنگیAbstract
دینی مدارس اسلامی تہذیب و تمدن کے تسلسل، فکری تشکیل اور مذہبی اقدار کے تحفظ میں ایک ناقابل ِانکار کردار کے حامل ادارے رہے ہیں۔ برصغیر میں اسلامی تشخص کے تحفظ اور مسلم عوام کی دینی ضروریات کی تکمیل کے لیے ان اداروں نے ایک عظیم علمی روایت قائم کی ہے۔ تاہم عصرِ حاضر میں علم کی وسعت ، سماجی پیچیدگیوں ، سائنسی انقلاب ، ٹیکنالوجی کی پیش رفت اور فکری تیز رفتاری نے علمی و تربیتی اداروں کو ایک نئے دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے جہاں محض دینی علوم کی تعلیم جدید دنیا کے چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے کے لیے کافی نہیں رہی۔ اسی تناظر میں دینی مدارس کے نصاب و نظام میں عصری و سائنسی علوم کا ادغام ایک اہم علمی و فکری ضرورت بن چکا ہے۔ زیر نظر خلاصہ اسی علمی ضرورت کی وضاحت ، اس سے وابستہ چیلنجز کے تجزیہ اور اس ضمن میں ممکنہ اصلاحی اقدامات کی نشاندہی کے لیے ترتیب دیا گیا ہے تاکہ علمی و تحقیقی سطح پر ایک مربوط و متوازن فہم پیش کیا جا سکے۔ تحقیق کا آغاز اس سوال سے ہوتا ہے کہ دینی مدارس کی موجودہ ساخت اور نصابی تشکیل کس حد تک عصر حاضر کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور کیا مدارس میں عصری علوم کی شمولیت ممکن، مفید اور شرعی حدود میں رہتے ہوئے قابل ِ قبول ہے؟ اس حوالے سے تحقیق میں نہ صرف مدارس کے تاریخی و نظریاتی پس منظر کو بنیاد بنایا گیا ہے بلکہ موجودہ عالمی تناظر میں مسلم معاشروں کی تعلیمی محرومی، فکری تنزلی اور سائنسی عدم پیش رفت کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔ تحقیق کا مقصد مدارس اور جدید تعلیم کے امتزاج کے لیے ایک ایسا فکری اور عملی خاکہ مہیا کرنا ہے جو مدارس کے اصل مقصد کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں عصرِ حاضر کے فکری و سائنسی میدانوں میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکے۔موضوع کی اہمیت اس بات سے بھی اجاگر ہوتی ہے کہ مدارس پاکستان میں کروڑوں طلبہ کی دینی و اخلاقی تربیت کے مراکز ہیں اور اگر ان اداروں کو جدید تعلیم کے دھارے سے جوڑ دیا جائے تو نہ صرف تعلیمی خلیج ختم ہو سکتی ہے بلکہ علمی تفریق ، سماجی طبقاتی تقسیم اور فکری محدودیت بھی بتدریج کم کی جاسکتی ہے۔ ایسے فارغ التحصیل طلبہ جو قرآن و سنت سے مزین ہونے کے ساتھ ساتھ سائنسی و سماجی علوم سے بھی بہرہ ور ہوں، وہ نہ صرف دینی قیادت کے اہل ہوں گے بلکہ ریاستی اداروں ، بین الاقوامی تعلقات ، سماجی فلاح و بہبود اور سائنسی تحقیق جیسے شعبوں میں بھی قابل اعتماد کردار ادا کر سکیں گے۔ یہی وہ ہم آہنگی ہے جو ایک صالح ، باشعور اور ترقی یافتہ اسلامی معاشرے کی بنیاد بن سکتی ہے۔اس موضوع پر تحقیق پر اشد ضرورت اس لیے بھی محسوس کی گئی کہ مدارس کو ایک مخصوص دائرہ کار تک محدود کردینے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دینی تعلیم کے حامل افراد کو عملی زندگی میں فکری ہم آہنگی ، پیشہ ورانہ مہارت اور عصری تقاضوں کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے میں شدید دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دینی طبقہ معاشرے میں یا تو غیر مؤثر رہتا ہے یا جدید علمی حلقوں میں ان کی بات کو قبولیت نہیں ملتی ۔ لہٖذا اس تحقیق کے ذریعے اس خلا کو پر کرنے اور مدارس کو علمی وسعت عطا کرنے کی سنجیدہ کوشش کی گئی ہے۔تحقیق کی حدود میں اس امر کا خیال رکھا گیا ہے کہ پاکستان کے اندر موجودہ دینی مدارس کے نظام، ان کے نصابی ڈھانچے ، طلبہ کی تعلیمی ضروریات، اساتذہ کی اہلیت اور ادارہ جاتی ساخت کو ہی مرکزِ تحقیق بنایا گیا ہے. منہج تحقیق میں بیانی ، تجزیاتی اور تجویزی اسلوب کو اختیار کیا جائے گا۔ مدارس کے نصابی ارتقا، عصری علوم کی تاریخی حیثیت، اسلامی تعلیمات میں دنیاوی علوم کی اجازت و ترغیب ، جدید تعلیمی نظریات ، موجودہ پاکستانی دینی تعلیمی ڈھانچے اور مدارس کے منتظمین ، اساتذہ و طلبہ کے انٹرویوز اور آرا کی بنیاد پر نتائج اخذ کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ مدارس و جامعات کے تعامل کے حوالے سے بعض تجزیاتی ماڈلز اور ان کی کامیابی و ناکامی کا تجزیہ بھی تحقیق کا حصہ بنایا جائے گا۔آخر میں نتائج اور سفارشات پیش کی جائیں گی۔
Downloads
References
Nadwi, Abu Hasan Ali. Muslim Education: Past and Present. Lucknow: Nadwatul Ulama, 1995.
Muhammad Qasim Zaman, The Ulama in Contemporary Islam: Custodians of Change (Princeton: Princeton University Press, 2002), 45.
ابوالحسن علی ندوی، نقوشِ رفتگاں، (لکھنؤ:ندوۃ العلما، 1984)، ص 211۔
مبارک علی، تاریخ کے شعور کی تلاش، (لاہور: تاریخ پبلی کیشنز، 1998)،ص 129۔
خورشید احمد، اسلامی نظامِ تعلیم، ادارہ معارف اسلامی، 1990، ص 78۔
القرآن (۳۹:۹)
.محمد اقبال، تشکیلِ جدید الٰہیات اسلامیہ(لاہور:شیخ غلام علی اینڈ سنز، ۱۹۳۰)، ۵۷
.شبلی نعمانی، مقالات شبلی، جلد ۲ (علی گڑھ: دارالمصنفین شبلی اکیڈمی، ۱۹۲۶)، ۱۷۹
امام غزالی، احیا علوم الدین، جلد ۱ ، بیروت:دارالفکر، ۱۹۹۲، ص ۴۵۔
شاہ ولی اللہ دہلوی، حجۃ اللہ البالغہ، )دہلی: مجلس اشاعت العلوم، ۲۰۰۱(، ص ۱۳۲۔
فضل الرحمن، اسلام اور جدیدیت (کراچی:اُردو سائنس بورڈ، ۱۹۷۹)، ۷۴۔
ابوالاعلیٰ مودودی، اسلام کا نظامِ حیات (لاہور: ادارہ ترجمان القرآن، ۱۹۵۵)، ۲۵۔
وزارت تعلیم پاکستان، مدارس کی رجسٹریشن رپورٹ، اسلام آباد، ۲۰۲۳۔
ڈاکٹر عبدالغفور راشد، ‘’ مدارس اور جدید تعلیم’’، ماہنامہ المعارف، لاہور، جنوری ۲۰۲۰، ص ۲۶۔
محمودالحسن، مدارس دینیہ اور جدید تعلیمی تقاضے(لاہور:ادارہ علوم اسلامی ، ۲۰۲۰)، ۸۸۔
نعمان صدیقی ، دینی مدارس میں عصری مضامین کی تدریس:ایک جائزہ، مجلہ تحقیقات اسلامی ، جلد ۳۲، شمارہ ۲ (۲۰۲۱): ۴۵۔
یوسف القرضاوی، اسلام اور جدید علوم، ترجمہ:عبدالغفار حسن(لاہور:مکتبہ الفرقان، ۲۰۰۵)، ۱۱۲۔
ڈاکٹر امتیاز عالم،”مدارس کا نصاب اور قومی دھارا”، پاکستان اسٹڈی جرنل، کراچی، اپریل ۲۰۲۱، ص۴۷۔
خورشید احمد، اسلامی تعلیم اور عصری تقاضے، ادارہ معارف اسلامی ، لاہور، ۲۰۰۳، ص ۱۱۵۔
عبدالرؤف فاروقی، “ دینی مدارس میں جدید علوم کی شمولیت:مواقع اور چیلنجز”، جامعہ اشرفیہ ریسرچ جرنل، شمارہ ۷، ۲۰۱۹، ص ۳۴۔
قمرالدین خان، دینی مدارس کا نصاب اور اصلاحات کی ضرورت (کراچی: مکتبہ فکر جدید،2019)، 103۔
عبدالرؤف، پاکستان میں نصاب سازی کے اصول و مبادی (اسلام آباد: قومی تعلیمی کمیشن،2018)، 45۔
فاطمہ پروین، عصری تعلیم اور نصاب سازی کے چیلنجز (لاہور:مجلس تحقیق تعلیم،2020)، 62۔
محمد زبیر احمد ، پاکستان میں دینی مدارس اور جدید تعلیم: ایک تحقیقی مطالعہ (لاہور:ادارہ تحقیقات تعلیم، 2019)، 112۔
سعید الرحمن، مدارس کے نصاب میں اصلاحات اور عصری تقاضے (کراچی: مکتبہ فکر جدید،2021)، 87۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی ، دینی مدارس کا نظام تعلیم:ماضی ، حال اور مستقبل، اسلام آباد:دعوۃ اکیڈمی ، ۲۰۰۶ ، ص ۷۸۔
ڈاکٹر فضل الرحمن، اسلامی تعلیمات اور جدید دنیا(لاہور:ادارہ فکر اسلامی، ۲۰۱۲)، ص ۹۴۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی، خطبات:دینی و عصری تعلیم(اسلام آباد:اکیڈمی آف اسلامک ریسرچ، ۲۰۱۵)،ص ۷۸۔
مولانا شبیر احمد عثمانی، اسلامی نظام تعلیم (کراچی:مکتبہ عثمانیہ، ۱۹۹۸)،ص ۶۵۔
علامہ محمد اقبال، رموزِ بیخودی، مطبوعہ اقبال اکادمی پاکستان، ص ۱۰۱۔
ڈٓاکٹر منظور احمد ، مدارس دینیہ کا عصری کردار(کراچی:دارالتصنیف، ۲۰۰۹)،ص ۱۳۹۔
ڈاکٹر عبدالحفیظ شاکر، تربیت معلم اور عصری تقاضے (ملتان:دارالفکر، ۲۰۲۰)، ص ۵۳۔
سید ابوالاعلیٰ مودودی، تعلیمات اسلامی اور دینی مدارس(لاہور:ترجمان القرآن، ۱۹۹۵)،ص ۱۱۷۔
Downloads
Published
Issue
Section
License
Copyright (c) 2026 Muhammad Jamal, Iftikhar Ahmed (Author)

This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.
